صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۱ - رمضان اور ذی الحجہ کی فضیلت
رمضان اور ذی الحجہ: عیدوں کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے
صحیح مسلم : ۲۵۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۳۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ ، رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
ابوبکرہ روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ عیدوں کے ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان شریف، دوسرا ذی الحجہ۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۱ کا خلاصہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ماہ عیدوں کے ناقص نہیں ہوتے، ایک رمضان اور دوسرا ذی الحجہ۔ اس حدیث کا اصل موضوع عید کے مہینے ہیں۔ رمضان کے بعد عید الفطر آتی ہے اور ذی الحجہ میں عید الاضحی ہوتی ہے۔ حدیث کے الفاظ میں ان دونوں مہینوں کی خاص حیثیت بیان ہوئی ہے۔ یہاں ہمیں اتنی ہی بات پر رکنا چاہیے جو حدیث میں آئی ہے: رمضان اور ذی الحجہ عیدوں سے تعلق رکھنے والے دو اہم مہینے ہیں اور انہیں ناقص نہیں کہا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی طرف سے لمبی بحث شروع کر دیں، بلکہ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ان مہینوں کی دینی حیثیت کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان اور ذی الحجہ عیدوں سے تعلق رکھنے والے خاص مہینے ہیں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مہینوں کو ناقص نہیں فرمایا۔
- دینی مہینوں کی قدر حدیث کے الفاظ کے مطابق سمجھنی چاہیے۔
