صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۲ - رمضان اور ذوالحجہ عید کے دو مہینے

عید کے دو مہینے: رمضان اور ذوالحجہ کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۳۲

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إسحاق بْنِ سُوَيْدٍ ، وَخَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ " ، فِي حَدِيثِ خَالِدٍ : " شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا ہے اور خالد کی روایت میں ہے کہ ”عید کے دو ماہ رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۲ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔ خالد کی روایت میں صراحت کے ساتھ آیا کہ عید کے دو ماہ رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔ اس حدیث میں رمضان اور ذوالحجہ دونوں کو ایک خاص نسبت سے ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ ایک کے بعد عید الفطر ہے اور دوسرے میں عید الاضحی۔ متن میں جو بات صاف ہے وہ یہی ہے کہ یہ دونوں مہینے عیدوں کے مہینے ہیں اور ناقص نہیں کہے گئے۔ اس سے ایک مسلمان کو یہ سمجھ آتی ہے کہ اسلامی سال میں کچھ مہینے عبادت اور اجتماعی خوشی سے خاص تعلق رکھتے ہیں۔ البتہ اس حدیث سے باہر کی تفصیل یا اضافی حکم لگانا درست نہیں جب تک وہ کسی واضح دلیل سے ثابت نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رمضان اور ذوالحجہ کو عید کے دو مہینے کہا گیا ہے۔
  • حدیث کے الفاظ میں ان دونوں مہینوں کی خاص نسبت بیان ہوئی ہے۔
  • دینی بات میں متن کے اندر رہ کر بات سمجھنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں