صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۳ - سفید اور سیاہ دھاگے کا مطلب
سحری کا آخری وقت: سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ کا مطلب
صحیح مسلم : ۲۵۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۳۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 ، قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ : عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ ، أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ ، إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ " .
عدی بن حاتم روایت:
جب یہ آیت اتری «َ(حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» (البقرۃ: ۱۸۷) یعنی ”کھاتے پیتے رہو جب تک کہ ظاہر ہو جائے سفید دھاگہ کالے دھاگے سے صبح کے۔“ تو سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! میں اپنے تکیہ کے نیچے دو رسیاں رکھتا ہوں ایک سفید ایک کالی اسی سے میں پہچان لیتا ہوں رات کو دن سے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا تکیہ تو بہت چوڑا ہے (مزاح کی راہ سے فرمایا کہ اتنا چوڑا ہے کہ صبح اسی کے نیچے سے ہوتی ہے) اس آیت میں تو سیاہی رات کی اور سفیدی دن کی مراد ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۳ کا خلاصہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی روایت سحری کے آخری وقت کو سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ جب آیت نازل ہوئی کہ کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سفید دھاگہ کالے دھاگے سے واضح ہو جائے، تو عدی رضی اللہ عنہ نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور کالی دو رسیاں رکھ لیں تاکہ رات اور دن کا فرق معلوم کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں عام دھاگے مراد نہیں تھے۔ سحری کا وقت فجر کے ظاہر ہونے تک ہے، یعنی جب رات کی تاریکی سے صبح کی سفیدی واضح ہو جائے۔ حدیث کا انداز سادہ بھی ہے اور سمجھانے والا بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفید اور سیاہ دھاگے سے مراد حقیقی دھاگے نہیں بلکہ رات اور دن ہیں۔
- سحری کا تعلق فجر کے ظاہر ہونے سے ہے۔
- دینی بات سمجھ نہ آئے تو پوچھ لینا صحابہ کا طریقہ تھا۔
