صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۲ - رمضان کے کفارے کی روایت کا فرق

رمضان کے کفارے والی حدیث میں الفاظ کا فرق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۰۲

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ : " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ " ، وَلَا قَوْلُهُ : " نَهَارًا " .

عائشہ روایت:

ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور اس حدیث کو ذکر کیا اخیر تک جیسے اوپر گزری مگر اس کے اول میں ”صدقہ دے، صدقہ دے۔“ نہیں ہے اور نہ دن کا لفظ ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۲ کا خلاصہ

یہ حدیث اسی واقعے کی ایک دوسری روایت کو بیان کرتی ہے جس میں ایک شخص رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا تھا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث کو آخر تک ذکر کیا، مگر اس روایت میں دو باتوں کا فرق بتایا گیا ہے۔ پہلی بات یہ کہ شروع میں ”صدقہ دے، صدقہ دے“ کے الفاظ نہیں آئے۔ دوسری بات یہ کہ ”دن“ کا لفظ بھی نہیں آیا۔ اس سے ہمیں حدیث کے الفاظ نقل کرنے میں راویوں کی احتیاط کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں اصل موضوع رمضان میں روزہ، کفارہ، اور روایت کے الفاظ کا فرق ہے۔ عام قاری کے لیے اہم بات یہ ہے کہ حدیث سمجھتے وقت متن کے الفاظ پر دھیان دیا جائے اور جو لفظ روایت میں ہو، اسی کو بیان کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث نقل کرتے وقت الفاظ کی درستگی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
  • ایک ہی واقعہ مختلف الفاظ کے ساتھ روایت ہو سکتا ہے۔
  • جو لفظ روایت میں نہ ہو، اسے حدیث کا حصہ بنا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
  • مسئلہ سمجھنے کے لیے روایت کے متن کو غور سے پڑھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں