صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۳ - رمضان میں غلطی اور نبی صلى الله عليه وسلم کی آسانی
رمضان میں غلطی ہو جائے تو نبی صلى الله عليه وسلم کا آسان طریقہ
صحیح مسلم : ۲۶۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۰۳
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ احْتَرَقْتُ ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا شَأْنُهُ ؟ ، فَقَالَ : أَصَبْتُ أَهْلِي ، قَالَ : تَصَدَّقْ ، فَقَالَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَالِي شَيْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، قَالَ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ ، أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا ؟ ، فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِهَذَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَيْرَنَا ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْءٌ ، قَالَ : فَكُلُوهُ " .
عائشہ روایت:
ایک شخص آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں رمضان میں اور عرض کی یا رسول اللہ! میں جل گیا، میں جل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حال ہے اس کا۔“ اس نے عرض کی کہ میں نے اپنی بی بی سے صحبت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے۔“ اس نے عرض کی کہ قسم اللہ کی! اے نبی اللہ کے! میرے پاس کچھ نہیں ہے اور نہ میں کچھ دے سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ۔“وہ بیٹھ گیا اور وہ اسی حال میں تھا کہ ایک آدمی آیا اور ایک گدھے کو ہانکتا ہوا لایا کہ اس پر کچھ غلہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جلنے والا کہاں ہے جو ابھی یہاں تھا؟“ اور وہ کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے اس کو صدقہ دے۔“ اس نے عرض کی کہ کیا میرے سوا اس کا مستحق کوئی اور ہے؟ اللہ کی قسم! ہم لوگ بھوکے ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اسے کھاؤ۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۳ کا خلاصہ
یہ حدیث رمضان میں روزہ توڑنے کے کفارے کے بارے میں بہت واضح واقعہ بیان کرتی ہے۔ ایک شخص مسجد میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور بار بار کہنے لگا کہ میں جل گیا۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کا حال پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس نے اپنی بیوی سے تعلق کر لیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ صدقہ دے۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ اس کے پاس کچھ نہیں اور وہ دینے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے بیٹھنے کا فرمایا۔ پھر جب ایک شخص گدھے پر غلہ لایا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے وہ غلہ اس شخص کو صدقہ کرنے کے لیے دیا۔ اس نے اپنی بھوک اور گھر کی حاجت بتائی تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے کھاؤ۔ اس حدیث میں روزہ، کفارہ، صدقہ اور حاجت مند کی رعایت کا سبق موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلطی چھپانے کے بجائے مسئلہ پوچھنا بہتر ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے صدقہ کا حکم دیا، پھر اس شخص کی محتاجی کو بھی دیکھا۔
- دین میں مسئلہ بتاتے وقت انسان کی حالت بھی دیکھی جاتی ہے۔
- حاجت مند کے لیے آسانی کی صورت موجود ہو سکتی ہے۔
