صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۴ - سفر میں روزہ اور افطار
سفر میں روزہ رکھنا یا افطار کرنا
صحیح مسلم : ۲۶۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۰۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ، ثُمَّ أَفْطَرَ " ، قَالَ : وَكَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ ،
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے جس سال مکہ فتح ہوا رمضان میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا یہاں تک کہ جب کدید میں پہنچے (نام مقام کا ہے کہ وہاں ایک نہر ہے اور مدینہ سے سات منزل ہے اور وہاں سے مکہ دو منزل رہتا ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ کدید ایک نہر ہے بیالیس میل مکہ سے) تو افطار کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نئی سے نئی بات جو ہوتی اس کا اتباع کرتے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۴ کا خلاصہ
یہ حدیث رمضان کے سفر میں روزہ رکھنے اور بعد میں افطار کرنے کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بیان کے مطابق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں نکلے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے سفر کے دوران روزہ رکھا، یہاں تک کہ کدید کے مقام پر پہنچے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے افطار کیا۔ روایت میں یہ بھی بتایا گیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے نئے حکم یا نئے عمل کی پیروی کرتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع سفر میں رمضان کا روزہ ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک ہی سفر میں پہلے روزہ رکھا اور پھر افطار کیا۔ اس لیے اس متن سے سفر کی حالت، روزہ، افطار، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی کا صاف سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے رمضان کے سفر میں پہلے روزہ رکھا اور پھر افطار کیا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی کرتے تھے۔
- سفر میں حالات بدلنے پر عمل بھی بدل سکتا ہے، جیسا کہ اس روایت میں آیا۔
- حدیث کے متن میں کدید تک روزہ اور پھر افطار کا ذکر واضح ہے۔
