صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۵ - نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری عمل کی پیروی
نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری عمل کو سمجھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۶۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۰۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، قَالَ يَحْيَى : قَالَ سُفْيَانُ : لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ يَعْنِي ، وَكَانَ يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
زہری روایت:
زہری سے اس اسناد سے مثل اسی کے مروی یحییٰ نے کہا کہ سفیان نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ قول کس کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخر قول لیا جاتا ہے یعنی اول قول منسوخ ہوتا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے مضمون ہی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، یعنی رمضان کے سفر میں روزہ اور افطار کا مسئلہ۔ یہاں زہری کی سند سے اسی طرح روایت آئی، پھر یحییٰ نے سفیان کا قول نقل کیا کہ انہیں معلوم نہیں یہ بات کس کا قول ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا آخری قول لیا جاتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری عمل کی پیروی ہے۔ عام الفاظ میں بات یہ ہے کہ جب ایک معاملے میں پہلے ایک عمل اور بعد میں دوسرا عمل ملے تو اہل علم روایت کے الفاظ اور ترتیب کو دیکھتے ہیں۔ اس روایت میں خاص طور پر اسی بات کا ذکر ہے کہ آخر والی بات کو لیا جاتا تھا۔ اس کو سمجھتے ہوئے ہمیں اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ روایت کے الفاظ تک رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مسئلے میں روایت کی ترتیب اہم ہو سکتی ہے۔
- راوی نے یہ بھی بتایا کہ اسے قول کے قائل کا یقین نہیں۔
- حدیث سمجھنے میں احتیاط اور الفاظ کی پابندی ضروری ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری عمل کا ذکر اس روایت میں خاص طور پر آیا ہے۔
