صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۷ - نئے حکم کی پیروی

صحابہ کرام کا نبی صلى الله عليه وسلم کے نئے عمل کی پیروی کرنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۰۷

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ ، وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ .

زہری روایت:

زہری سے اس اسناد سے مروی ہے کہ انہوں نے مثل حدیث لیث کے روایت کی ہے اور ابن شہاب نے کہا کہ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نئی نئی بات اختیار کرتے تھے اور نئی بات کو ناسخ اور محکم جانتے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور پھر افطار کیا اور افطار کو ناسخ جانتے ہیں اور روزہ رکھنے کو منسوخ)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۷ کا خلاصہ

یہ روایت رمضان کے سفر میں روزہ اور افطار کے سلسلے ہی کی ایک اہم بات بیان کرتی ہے۔ ابن شہاب نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے نئے سے نئے عمل کی پیروی کرتے تھے، اور اسے ناسخ اور محکم سمجھتے تھے۔ یہاں بات خاص طور پر اسی واقعے کے تناظر میں آئی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے روزہ رکھا، پھر افطار کیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی اور روایت کی ترتیب ہے۔ عام قاری کے لیے آسان بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کی بات کو اپنی رائے پر مقدم رکھتے تھے۔ جب انہیں نبی صلى الله عليه وسلم کا بعد والا عمل معلوم ہوتا تو وہ اسے اہم سمجھتے۔ اس روایت میں سفر، رمضان، روزہ اور افطار سب اسی نکتے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی کرتے تھے۔
  • روایت میں نئے عمل کو ناسخ اور محکم سمجھنے کا ذکر ہے۔
  • سفر میں روزہ اور افطار کے مسئلے میں ترتیب بیان ہوئی ہے۔
  • حدیث کے الفاظ سے باہر جا کر اضافی حکم نہیں لگانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں