صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۹ - سفر میں روزہ دار اور افطار کرنے والا
سفر میں روزہ رکھنے اور افطار کرنے پر عیب نہ لگانا
صحیح مسلم : ۲۶۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۰۹
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ ، قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم برا نہیں کہتے اس کو جو روزہ رکھے۔ (یعنی سفر میں) اور نہ اس کو جو افطار کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۰۹ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر میں رمضان کے روزے کے بارے میں بہت آسان رہنمائی دیتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم اس شخص کو برا نہیں کہتے جو سفر میں روزہ رکھے، اور نہ اس شخص کو برا کہتے ہیں جو افطار کرے۔ پھر انہوں نے وجہ بھی بیان کی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سفر میں روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جہاں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں دونوں صورتیں آئی ہوں، وہاں ایک دوسرے پر بے وجہ عیب لگانے سے بچنا چاہیے۔ سفر میں روزہ، افطار، اور ایک دوسرے کی رعایت اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ عام زندگی میں بھی یہ سبق ہے کہ جس مسئلے میں روایت میں گنجائش آئی ہو، وہاں سختی اور طعنہ نہیں ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں روزہ رکھنے والے کو برا نہیں کہا گیا۔
- سفر میں افطار کرنے والے کو بھی برا نہیں کہا گیا۔
- دونوں صورتوں کی بنیاد نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل پر بیان ہوئی۔
- ایسے مسئلے میں دوسروں پر عیب لگانے سے بچنا چاہیے۔
