صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۸ - بغیر ہدی حلال ہونا
بغیر ہدی والے حاجی کا عمرہ کے بعد حلال ہونا
صحیح مسلم : ۳۰۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۰۸
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : " وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا " .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ طلحہ بن عبیداللہ اور ایک شخص جن کے پاس قربانی نہیں تھی وہ دونوں حلال ہو گئے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۸ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسرے لفظوں میں بیان کرتی ہے کہ جن لوگوں کے پاس ہدی نہیں تھی، وہ حلال ہو گئے۔ اس میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے شخص کا ذکر ہے کہ وہ ان لوگوں میں تھے جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی، اس لیے دونوں نے احرام کھول دیا۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ یہاں اصل نکتہ ہدی کا ہونا یا نہ ہونا ہے۔ حج تمتع، عمرہ کے بعد احرام کھولنا، اور بغیر ہدی والے کا حکم اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔ یہ روایت 3007 کے ساتھ مل کر مسئلہ کو مزید واضح کرتی ہے، کیونکہ ایک میں ہدی والوں کا ذکر ہے اور دوسری میں بغیر ہدی والوں کا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بغیر ہدی والے افراد نے احرام کھول دیا۔
- احرام کھولنے کا حکم سب کے لیے ایک جیسا نہیں تھا۔
- روایت میں نام کے ساتھ حکم کا اطلاق بھی بیان ہوا ہے۔
- اسی واقعہ کی مختلف روایتیں مل کر بات کو واضح کرتی ہیں۔
