صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۷ - بھول یا لاعلمی میں ترتیب بدل جائے
بھول یا لاعلمی میں حج کے اعمال آگے پیچھے ہو جائیں
صحیح مسلم : ۳۱۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۵۷
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْيِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ : إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ، فَيَقُولُ : " انْحَرْ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا ، إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلُوا ذَلِكَ وَلَا حَرَجَ " ،
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر کھڑے رہے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلے پوچھنے لگے، سو ایک نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے نہ جانا کہ رمی نحر کے قبل ضروری ہے اور میں نے نحر کر لیا رمی سے پہلے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اب رمی کر لو اور کچھ مضائقہ نہیں۔“ اور دوسرے نے کہا کہ میں نے نہ جانا کہ نحر قبل حلق کے ہے اور حلق کر لیا قبل نحر کے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:”اب نحر کر لو اور کچھ حرج نہیں ہے۔“راوی نے کہا: میں نے بھی سنا کہ جس نے اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسا کام پوچھا کہ جسے انسان بھول جاتا ہے اور آگے پیچھے کر لیتا ہے اور اس کی مانند تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ”اب کر لو اور کچھ حرج نہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر کھڑے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل پوچھ رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ رمی نحر سے پہلے ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے نحر کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ دوسرے نے کہا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ نحر حلق سے پہلے ہے، اس لیے میں نے نحر سے پہلے حلق کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب نحر کر لو، کوئی حرج نہیں۔ راوی نے آخر میں واضح کیا کہ اس دن بھول یا لاعلمی سے تقدیم و تاخیر کے بارے میں جو سوال ہوا، جواب یہی ملا: کر لو، کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمی، نحر اور حلق کی ترتیب کے بارے میں سوالات ہوئے۔
- سوالات میں لاعلمی اور بھول کا ذکر ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹا ہوا عمل کرنے کا فرمایا۔
- جواب میں بار بار کوئی حرج نہیں کے الفاظ آئے۔
