صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۹ - نحر کے دن خطبہ اور لا حرج

نحر کے دن خطبہ میں حج کے اعمال پر لا حرج کی تعلیم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۵۹

وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ : مَا كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ ، قَالَ : " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " ،

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کے دن خطبہ پڑھا اور ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! آگے وہی مضمون ہے جو اوپر کی روایتوں میں کئی بار گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نحر کے دن خطبہ دے رہے تھے۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ میں سمجھتا تھا فلاں کام فلاں سے پہلے ہے۔ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی اسی طرح سوال کیا۔ روایت میں تین چیزوں کی طرف اشارہ ہے، یعنی رمی، نحر اور حلق کے کام آگے پیچھے ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کر لو، کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع خطبہ نہیں بلکہ خطبہ کے دوران پوچھے گئے حج کے مسائل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسان جواب ہے۔ اس میں وہی لا حرج کا مضمون سامنے آتا ہے جو اس باب کی پچھلی روایات میں آ چکا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نحر کے دن خطبہ کے دوران سوالات ہوئے۔
  • سوال حج کے اعمال کی ترتیب سے متعلق تھے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کر لو، کوئی حرج نہیں۔
  • روایت میں رمی، نحر اور حلق کی طرف اشارہ موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں