صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۰ - رمی، نحر اور حلق میں تقدیم و تاخیر
رمی، نحر اور حلق آگے پیچھے ہو جائیں تو لا حرج
صحیح مسلم : ۳۱۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۶۰
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَكْرٍ ، فَكَرِوَايَةِ عِيسَى ، إِلَّا قَوْلَهُ : لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ ، وَأَمَّا يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، فَفِي رِوَايَتِهِ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ .
کہا مسلم نے روایت کی ہم سے یہی حدیث عبد بن حمید نے، ان سے محمد بن بکر نے اور کہا مسلم نے اور روایت کی مجھ سے سعید بن یحییٰ اموی نے، ان سے ان کے باپ نے اور سب نے روایت کی ابن جریج سے اسی اسناد سے مگر ابن بکر کی روایت مثل روایت عیسیٰ کی ہے مگر قول ان کا کہ یہ تین چیزیں (یعنی رمی اور نحر اور حلق) یہ مذکور نہیں اور یحییٰ کی روایت میں یوں ہے کہ ایک نے کہا: حلق کیا ہے میں قبل نحر کے اور نحر کی قبل رمی کے اور اسی کی مانند۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۰ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مختلف طرق کو بیان کرتی ہے۔ ایک روایت میں تین چیزوں کا صراحت سے ذکر نہیں، جبکہ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے کہ ایک شخص نے کہا: میں نے نحر سے پہلے حلق کیا، اور رمی سے پہلے نحر کیا، اور اسی طرح کے سوالات ہوئے۔ اصل جواب وہی رہا: کر لو، کوئی حرج نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت کا مرکز حج کے اعمال کی ترتیب ہے، خاص طور پر رمی، نحر اور حلق۔ اس میں خود سے کوئی نیا حکم شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ نحر کے دن جن لوگوں سے لاعلمی یا بھول میں ترتیب بدل گئی، انہوں نے پوچھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عمل پورا کرنے کا فرمایا اور حرج کی نفی فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں مختلف سندوں سے وہی مضمون آیا۔
- حلق قبل نحر اور نحر قبل رمی کا ذکر ہے۔
- جواب میں کوئی حرج نہیں کے الفاظ کا مضمون برقرار ہے۔
- حدیث کو رمی، نحر اور حلق کی ترتیب کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
