صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۱ - حج کے اعمال میں تقدیم و تاخیر پر کوئی حرج نہیں
حج میں افعال کی ترتیب: فاذبح ولا حرج کا آسان پیغام
صحیح مسلم : ۳۱۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۶۱
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فقَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَح ، قَالَ : " فَاذْبَحْ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کر کوئی حرج نہیں ہے۔“ کہا کہ میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر اور کوئی حرج نہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حج کے اعمال کی ترتیب ہے۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بتایا کہ اس نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ اس نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ اس سے حاجی کے لیے یہ بات آسان انداز میں سامنے آتی ہے کہ نحر کے دن اگر حلق، قربانی اور رمی میں آگے پیچھے ہو جائے تو اس مخصوص سوال کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی فرمائی۔ اس لیے اس حدیث کو لوگ عموماً حج میں اعمال کی ترتیب، رمی سے پہلے قربانی، اور حلق سے پہلے ذبح کی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نحر کے دن اگر بیان کردہ اعمال میں ترتیب بدل گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشکل نہیں بنایا۔
- مسئلہ پیش آئے تو اہل علم سے پوچھنا حاجی کے لیے بہتر راستہ ہے۔
- حدیث میں حلق، ذبح اور رمی کے بارے میں نرمی کا صاف جواب موجود ہے۔
