صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۲ - منیٰ میں افعل ولا حرج کا جواب

منیٰ میں حج کی ترتیب کے سوالات اور لا حرج کی ہدایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۶۲

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ بِمِنًى ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۲ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے معنی کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں یہ پہلو بھی آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں اونٹنی پر تھے، پھر ایک آدمی آیا اور حج کے عمل میں آگے پیچھے ہونے کا سوال کیا۔ جواب وہی آسان اور واضح تھا: جو عمل رہ گیا ہے اسے کر لو، کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام حج میں ترتیب کی غلطی یا بھول سے پریشان حاجی کے لیے اطمینان ہے۔ یہاں اصل بات یہ نہیں کہ آدمی جان بوجھ کر بے ترتیبی کرے، بلکہ متن میں آئے ہوئے سوال کی حد تک یہ بتایا گیا ہے کہ جب حلق، قربانی یا رمی جیسے عمل میں تقدیم و تاخیر ہو جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان جواب دیا۔ اسی لیے یہ روایت حج کی آسانی، افعل ولا حرج، اور منیٰ کے مسائل میں بہت تلاش کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی مسئلہ مختلف سندوں سے آئے تو اصل پیغام کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
  • حج کے عمل میں غلطی محسوس ہو تو پریشانی کے بجائے درست عمل مکمل کیا جائے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے کو مختصر اور آسان جواب دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں