صحیح مسلم حدیث ۳۲۰۴ - قربانی کے جانور کو ہار پہنا کر بھیجنے کا حکم

احرام کے بغیر ہدی بھیجنا: قربانی کا جانور روانہ کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۰۴

وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ ، فَنُرْسِلُ بِهَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .

عائشہ روایت:

ہم بکریوں کی گردنوں میں ہار ڈالتے اور ان کو روانہ کر دیتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حلال ہی رہتے وہ کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۰۴ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جمع کے انداز میں بیان کرتی ہیں کہ ہم بکریوں کی گردنوں میں ہار ڈالتے، پھر انہیں روانہ کر دیتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلال حالت میں رہتے تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی وجہ سے اپنے اوپر کوئی ایسی چیز حرام نہیں کی جو اصل میں حلال تھی۔ اس حدیث کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ ہدی بھیجنا اور احرام کی پابندیوں میں آ جانا ایک ہی بات نہیں۔ عام زبان میں یوں سمجھیں کہ قربانی کا جانور حرم کی طرف بھیج دیا گیا، مگر بھیجنے والا شخص جب تک احرام میں داخل نہ ہو، متن کے مطابق اس پر محرم والی پابندیاں نہیں لگتیں۔ اس لیے یہ روایت احرام کے بغیر ہدی بھیجنا اور قربانی کے جانور کا ہار جیسے موضوعات کے لیے بہت واضح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قربانی کا جانور حرم کی طرف بھیجا جا سکتا ہے۔
  • جانور کے گلے میں ہار ڈالنا اس کی پہچان کے لیے ذکر ہوا ہے۔
  • صرف ہدی بھیجنے سے بھیجنے والا خود محرم نہیں بنتا۔
  • جو چیزیں حلال ہیں، وہ اس عمل سے خود بخود حرام نہیں ہوتیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں