حدیث ۳۲۰۵
صحیح مسلم : ۳۲۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۰۵
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْيُ ، وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي ، فَاكْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِكِ ، قَالَت عَمْرَةُ ، قَالَت عَائِشَةُ : " لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، " أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي ، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ " .
عمرہ، عبدالرحمٰن کی بیٹی نے کہا کہ ابن زیاد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے قربانی بھیجی اس پر حرام ہو چکیں وہ چیزیں جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں جب تک کہ قربانی ذبح نہ ہو اور میں نے قربانی روانہ کی ہے سو جو حکم ہو مجھے لکھو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جیسا کہا ویسا نہیں ہے، میں نے خود بٹے ہیں ہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گلے میں ڈال کر میرے باپ کے ساتھ قربانی روانہ کر دی اور کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام نہ ہوئی اس کے ذبح تک جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال کی تھی۔
