صحیح مسلم حدیث ۳۴۴۳ - نکاح اور رزق
نکاح میں پھوپھی، خالہ اور سوکن کے حق کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۴۳
وحَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، أَوْ خَالَتِهَا ، أَوْ أَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَازِقُهَا " .
ابوہریرہ روایت:
منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہ نکاح میں لائی جائے کوئی عورت اس کی پھوپھی یا خالہ پر اور منع کیا اس سے کہ طلب کرئے کوئی عورت طلاق اپنی بہن کی کہ انڈیل لے جو اس کے برتن میں ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا رازق ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام نکاح میں رشتوں کے احترام اور رزق کے معاملے میں اللہ پر بھروسے سے متعلق ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح میں لایا جائے۔ اس میں خاندان کے اندر تعلقات کو خراب ہونے سے بچانے کی تعلیم صاف نظر آتی ہے، مگر ہم اسی حد تک بات کریں گے جو متن میں آئی ہے۔ حدیث میں یہ بھی منع فرمایا گیا کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کے حصے کی چیز اپنے لیے لے لے۔ آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا رازق ہے۔ اس لیے انسان کو نکاح یا گھر کے معاملے میں دوسروں کا حق چھیننے والی سوچ سے بچنا چاہیے۔ یہ حدیث سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ رشتہ کرتے وقت دل، خاندان اور رزق کے بارے میں انصاف ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح میں لانے سے منع کیا گیا۔
- کسی عورت کی طلاق کا مطالبہ اپنے فائدے کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔
- رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے دوسروں کا حصہ چھیننے کی سوچ درست نہیں۔
