صحیح مسلم حدیث ۳۴۴۲ - پیغام نکاح میں عدل

پیغام نکاح کی حدیث: رشتہ، سودا اور دوسروں کے حق کا احترام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۴۲

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص پیغام نکاح کا نہ دے اپنے بھائی کے پیغام پر (یعنی جب ایک شخص نے پیغام دیا جب تک لڑکی والے اس کو ناراضی کا پیغام نہ دیں اس وقت تک دوسرا آدمی وہاں پیغام نہ دے) اور نہ بھاؤ کرے کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر اور نہ نکاح میں لائی جائے کوئی عورت اپنی پھوپھی کے اوپر، نہ خالہ کے اوپر اور نہ مانگے کوئی عورت طلاق اپنی سوت کا تاکہ انڈیل لے جو اس کی رکابی میں ہے (یعنی اس کے حصے کا نان و نفقہ مجھے مل جائے) اور چاہیے کہ نکاح میں آئے اور جو اللہ نے اس کی قسمت میں لکھ دیا ہے وہ اس کا ہے۔“ (یعنی یہ نہ کہے کہ فلاں عورت تیرے نکاح میں ہے اس کو طلاق دے دے تو میں نکاح کروں گی)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۴۲ کا خلاصہ

یہ حدیث نکاح، پیغام نکاح، خرید و فروخت اور گھریلو انصاف کے بارے میں صاف رہنمائی دیتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے، یعنی جب ایک رشتہ پہلے سے بات چیت میں ہو تو دوسرا شخص بیچ میں آ کر معاملہ خراب نہ کرے۔ اسی طرح کسی کے بھاؤ یا سودے پر بھاؤ نہ لگائے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ ایک نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ اس نیت سے نہ کرے کہ اس کا حصہ اسے مل جائے۔ اس میں رزق، قسمت اور دوسروں کے حق کا خیال رکھنے کی تعلیم ہے۔ عام الفاظ میں یہ حدیث رشتہ، نکاح اور معاملات میں عدل، حیا اور دوسروں کی جگہ کا احترام سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کے جاری پیغام نکاح پر نیا پیغام نہیں دینا چاہیے۔
  • کسی کے بھاؤ یا سودے پر اپنا بھاؤ نہیں لگانا چاہیے۔
  • عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ ایک نکاح میں جمع نہیں کیا جاتا۔
  • دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ مفاد کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں