صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۰ - نکاح کے ولیمہ کی دعوت کا جواب
نکاح کے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے کا حکم
صحیح مسلم : ۳۵۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱۰
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيُجِبْ " ، قَالَ خَالِدٌ : فَإِذَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، يُنَزِّلُهُ عَلَى الْعُرْسِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بلایا جائے کوئی تم میں کا ولیمہ کی طرف چاہئیے کہ قبول کرے۔“ راوی نے کہا: عبیداللہ اس سے ولیمہ نکاح کا مراد لیتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل ہوا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی طرف بلایا جائے تو اسے قبول کرے۔ راوی خالد نے بیان کیا کہ عبیداللہ اسے ولیمہ نکاح پر محمول کرتے تھے۔ اس سے حدیث کا موضوع اور بھی صاف ہو جاتا ہے کہ یہاں خاص طور پر شادی کے ولیمہ کی دعوت مراد ہے۔ ولیمہ کی دعوت قبول کرنا، شادی کی دعوت میں جانا، اور مسلمان بھائی کی خوشی میں شریک ہونا اس روایت کے اہم الفاظ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ کھانا کتنا ہو یا دعوت کتنی بڑی ہو، بلکہ اصل بات دعوت کے جواب کی ہے۔ بلایا جائے تو قبول کیا جائے۔ یہی سادہ تعلیم عام زندگی میں رشتوں کو بہتر بناتی ہے، خاص طور پر نکاح جیسے خوشی کے موقع پر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ نکاح کی دعوت ملے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔
- دعوت کی اصل بات اس کا جواب دینا ہے، کھانے کی شان نہیں۔
- حدیث میں ولیمہ کے لفظ کو نکاح کے ولیمہ پر سمجھا گیا ہے۔
- شادی کے موقع پر بلائے جانے والے کو حاضر ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔
