صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۸ - رفاعہ قرظی کے واقعے کی روایت
رفاعہ قرظی کی بیوی کی حدیث اور تین طلاق کا مسئلہ
صحیح مسلم : ۳۵۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۲۸
حدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ .
عائشہ روایت:
رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو انہوں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے نکاح کر لیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! رفاعہ نے مجھے آخری تین طلاقیں دے دیں ہیں۔ باقی حدیث وہی ہے جو اوپر گزری ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر انہوں نے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بتایا کہ رفاعہ نے مجھے آخری تین طلاقیں دے دی ہیں۔ باقی مضمون وہی ہے جو پچھلی روایت میں گزرا۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع تین طلاق کے بعد نکاح کا حکم ہے۔ حدیث سے صاف سمجھ آتا ہے کہ پہلے شوہر کے لیے واپس حلال ہونے کے لیے دوسرے شوہر سے صرف عقد کا ہونا کافی نہیں بتایا گیا، بلکہ حقیقی ازدواجی تعلق کی شرط بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے واقعے کی تائید کرتی ہے۔
- آخری تین طلاقوں کے بعد پہلے نکاح کی طرف واپسی آسان لفظوں میں مشروط ہے۔
- دوسرے نکاح کی حقیقت کو حدیث میں اہم قرار دیا گیا ہے۔
