صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۹ - دوسرے شوہر سے دخول کی شرط

دوسرے شوہر سے دخول سے پہلے طلاق: کیا پہلا نکاح ہو سکتا ہے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۲۹

حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ ، فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلًا ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ ، قَالَ : " لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا " ،

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ ایک عورت سے کسی نے نکاح کر کے طلاق دے دی (یعنی تین طلاق مغلظہ) اور پھر اس نے دوسرے مرد سے نکاح کیا۔ اور اس نے بھی طلاق دے دی قبل دخول کے تو کیا وہ شوہر اول پر حلال ہو گئی یعنی اس سے نکاح کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک اس کا شہد نہ چکھے۔“ یعنی شوہر ثانی کا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سوال کیا گیا کہ ایک عورت کو پہلے شوہر نے طلاق دے دی، پھر اس نے دوسرے مرد سے نکاح کیا، لیکن دوسرے شوہر نے دخول سے پہلے طلاق دے دی۔ پوچھا گیا کہ کیا وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک اس کا شہد نہ چکھے۔ اس کا مطلب روایت کے الفاظ کے مطابق شوہر ثانی سے حقیقی ازدواجی تعلق ہے۔ یہ حدیث تین طلاق کے بعد نکاح کے مسئلے میں بہت واضح ہے۔ اس میں صرف نکاح نامہ یا مختصر عقد کو کافی نہیں بتایا گیا، بلکہ دوسرے نکاح میں ازدواجی تعلق کے بعد ہی پہلے شوہر سے نکاح کی گنجائش بیان ہوتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دخول سے پہلے دوسرے شوہر کی طلاق، پہلے شوہر کے لیے کافی نہیں بتائی گئی۔
  • حدیث میں سوال کا جواب مختصر مگر واضح الفاظ میں آیا ہے۔
  • تین طلاق کے بعد نکاح کا معاملہ صرف رسمی عقد سے حل نہیں ہوتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں