صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۰ - تین طلاق کے مسئلے کی دوسری سند
تین طلاق کے بعد نکاح: ایک ہی حکم دوسری سند سے
صحیح مسلم : ۳۵۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۳۰
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالاحدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۰ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ یعنی مضمون وہی ہے کہ اگر عورت کو تین طلاق ہو جائیں، پھر وہ دوسرے مرد سے نکاح کرے، مگر دخول سے پہلے طلاق ہو جائے، تو پہلے شوہر کے لیے نکاح کی اجازت نہیں ہو گی جب تک دوسرے نکاح میں حقیقی ازدواجی تعلق نہ ہو۔ چونکہ یہ روایت مختصر ہے، اس کی وضاحت پچھلی حدیث کے متن سے ہوتی ہے۔ تین طلاق کے بعد نکاح کے بارے میں یہ حدیث لوگوں کو ایک اہم غلط فہمی سے بچاتی ہے: صرف دوسرا عقد کر لینا کافی نہیں، بلکہ حدیث نے حقیقی تعلق کی شرط رکھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسری سند سے آنے والی روایت پچھلے حکم کی تائید کرتی ہے۔
- صرف نکاح کے بعد دخول سے پہلے طلاق کافی نہیں بتائی گئی۔
- شرعی مسئلے میں الفاظ کی ترتیب اور شرط کا خیال رکھنا چاہیے۔
