صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۱ - پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کی شرط
تین طلاق کے بعد پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کب؟
صحیح مسلم : ۳۵۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۳۱
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، فَأَرَادَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَسُئِلَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فقَالَ : " لَا ، حَتَّى يَذُوقَ الْآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ " ،
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک شخص نے طلاق دی اپنی عورت کو تین بار اور اس عورت سے کسی اور نے نکاح کیا اور پھر اس کو طلاق دی قبل دخول کے اور شوہر اول نے ارادہ کیا پھر اس سے نکاح کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک کہ شوہر ثانی اس سے جماع کی لذت نہ پا لے جیسے شوہر اول نے پائی تھی۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۱ کا خلاصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔ پھر اس عورت سے کسی دوسرے مرد نے نکاح کیا، لیکن دخول سے پہلے اسے طلاق دے دی۔ پہلے شوہر نے دوبارہ نکاح کا ارادہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک آخر والا شوہر اس کی لذت نہ پائے جیسے پہلے نے پائی تھی۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ تین طلاق کے بعد پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح صرف اس وقت ممکن بتایا گیا جب دوسرے نکاح میں حقیقی ازدواجی تعلق ہو چکا ہو۔ یہ بات بہت واضح اور عملی انداز میں بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین طلاق کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کے لیے حدیث نے واضح شرط بیان کی۔
- دوسرے شوہر کی دخول سے پہلے طلاق کافی نہیں ہے۔
- نکاح کے احکام میں ظاہری شکل نہیں، حقیقی صورت حال بھی دیکھی جاتی ہے۔
