صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۴ - جماع کی دعا کے الفاظ کی روایت
جماع کی دعا میں بسم اللہ کے الفاظ: روایت کی وضاحت
صحیح مسلم : ۳۵۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۳۴
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنِ الثَّوْرِيِّ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ ، غَيْرَ أَنَّ شُعْبَةَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ : بِاسْمِ اللَّهِ ، وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ : بِاسْمِ اللَّهِ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ مَنْصُورٌ : أُرَاهُ قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ .
مضمون وہی ہے مگر شعبہ کی روایت میں «بِاسْمِ اللَّهِ» کا لفظ نہیں اور عبدالرزاق کی روایت میں ہے اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ منصور نے کہا کہ خیال کرتا ہوں میں کہ انہوں نے «بِاسْمِ اللَّهِ» کہا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۴ کا خلاصہ
اس روایت میں اصل مضمون وہی ہے جو پچھلی حدیث میں آیا: میاں بیوی کے تعلق سے پہلے دعا پڑھنا، اللہ سے شیطان سے بچنے کی درخواست کرنا، اور ممکنہ اولاد کے لیے بھی شیطان سے حفاظت مانگنا۔ یہاں خاص بات یہ بیان ہوئی کہ شعبہ کی روایت میں «بِاسْمِ اللَّهِ» کا لفظ نہیں، جبکہ عبدالرزاق کی روایت میں یہ لفظ موجود ہے۔ ابن نمیر کی روایت میں منصور نے کہا کہ میرا خیال ہے انہوں نے «بِاسْمِ اللَّهِ» کہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت کے الفاظ میں معمولی فرق نقل ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی دعا اور اس کا مقصد وہی رہتا ہے: اللہ کا سہارا، شیطان سے پناہ، اور اولاد کے لیے خیر کی درخواست۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت کے الفاظ میں کبھی معمولی فرق نقل ہوتا ہے۔
- اصل دعا کا مقصد شیطان سے پناہ مانگنا ہے۔
- ازدواجی تعلق سے پہلے دعا کرنا حدیث میں سکھایا گیا ہے۔
