صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۶ - آیت نساؤکم حرث لکم کا سبب
نساؤکم حرث لکم: غلط خیال کی تردید
صحیح مسلم : ۳۵۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۳۶
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " أَنَّ يَهُودَ كَانَتْ تَقُولُ : إِذَا أُتِيَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا ، ثُمَّ حَمَلَتْ كَانَ وَلَدُهَا أَحْوَلَ ، قَالَ : فَأُنْزِلَتْ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 " ،
ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث اسی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۶ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے وہی مضمون بیان ہوا ہے۔ یہود کہا کرتے تھے کہ اگر عورت سے ایک خاص طریقے سے تعلق ہو اور وہ حاملہ ہو جائے تو بچہ بھینگا ہو گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی: «نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ»۔ حدیث کا آسان پیغام یہ ہے کہ بے بنیاد باتوں کو دین کی بات سمجھ کر قبول نہیں کیا جاتا۔ قرآن نے اس غلط خیال کی تردید کی۔ ساتھ ہی آیت کے الفاظ «حرث» سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ تعلق اسی جگہ سے متعلق ہے جو اولاد کا مقام ہے۔ اس لیے روایت اجازت کو بھی واضح کرتی ہے اور حد کو بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بے بنیاد دعووں کو قرآن کی ہدایت کے مقابل نہیں رکھا جاتا۔
- آیت نے ایک غلط خیال کی اصلاح کی۔
- ازدواجی تعلق کے معاملے میں حد کا خیال متن کے اندر موجود ہے۔
