صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۹ - عزل سے نہ کرنے کی طرف اشارہ

عزل کی حدیث میں ابن سیرین کا فہم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۴۹

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، قَالَا : حدثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ، فقَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَوْلُهُ : لَا عَلَيْكُمْ أَقْرَبُ إِلَى النَّهْيِ .

‏‏‏‏ مضمون حدیث کا وہی ہے جو اوپر گزر چکا اور محمد (ابن سیرین) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانے سے کہ ”کچھ حرج نہیں ہے اگر عزل نہ کرو“ نہی نکلتی ہے (یعنی نہ کرنا اولیٰ ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۹ کا خلاصہ

اس روایت میں مضمون وہی ہے جو عزل کے بارے میں پہلے گزر چکا: نبی صلى الله عليه وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ نہ کرو تو کچھ حرج نہیں، کیونکہ یہ تقدیر ہے۔ اس کے ساتھ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا فہم بھی نقل ہوا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے فرمان میں نہ کرنے کی طرف زیادہ قرب ہے۔ یہاں اصل حدیث کے الفاظ اور راوی کا فہم دونوں الگ الگ سامنے آتے ہیں۔ عزل کی حدیث کو سمجھتے ہوئے یہ فرق ضروری ہے کہ ایک طرف رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے، دوسری طرف محمد بن سیرین کی سمجھ ہے۔ متن میں تقدیر کا ذکر صاف موجود ہے، اس لیے حمل کے بارے میں آخری بات اللہ کے لکھے ہوئے فیصلے سے متعلق رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے اصل الفاظ اور راوی کے فہم میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔
  • حدیث میں عزل کے معاملے کو تقدیر سے جوڑا گیا ہے۔
  • محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے الفاظ کو نہ کرنے کے قریب سمجھا۔
  • روایت کو پڑھتے وقت متن اور تشریح کو الگ پہچاننا مفید ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں