حدیث ۳۵۵۰
صحیح مسلم : ۳۵۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۵۰
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ ، قَالَ : ذُكِرَ الْعَزْلُ عَنْدَ َالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " وَمَا ذَاكُمْ ؟ " ، قَالُوا : الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ ، فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ ، وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا ، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ ، قَالَ : " فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " ، قَالَ : ابْنُ عَوْنٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ ، فقَالَ : وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ .
عبدالرحمٰن بن بشر انصاری نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کیوں کرتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ کسی وقت آدمی کے پاس ایک عورت ہوتی ہے اور دودھ پلاتی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور ڈرتا ہے کہ اسے حمل ہو جائے اور کسی کے پاس ایک لونڈی ہوتی ہے اور وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اسے حمل ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مضائقہ ہے عزل نہ کرو؟ اس لیے کہ حمل ہونا نہ ہونا تقدیر سے ہے۔“ ابن عون نے کہاکہ میں نے یہ روایت حسن سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اس میں جھڑکنا ہے عزل کرنے سے۔
