صحیح مسلم حدیث ۳۵۸ - زمین کا جھگڑا اور جھوٹی قسم

زمین کے جھگڑے میں گواہ، قسم اور ظلم کی وعید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۸

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو عاصم الحنفي وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي ، كَانَتْ لِأَبِي ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي ، أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَكَ يَمِينُهُ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِك ؟ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ : " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا ، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " .

وائل بن حجر روایت:

ایک شخص حضر موت (ایک ملک کا نام عرب میں) کا اور ایک شخص کندہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضر موت والے نے کہا: یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین دبا لی ہے جو میرے باپ کی تھی۔ کندہ والے نے کہا: وہ میری زمین ہے میرے قبضہ میں ہے۔ میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں اس کا کچھ حق نہیں اس میں۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر موت والے سے کہا: ”تیرے پاس گواہ ہیں؟“ وہ بولا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے قسم لے“ وہ بولا: یا رسول اللہ! وہ تو فاجر ہے، قسم کھانے میں اس کو باک نہیں اور وہ پرہیز نہیں کرتا کسی بات سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اب کچھ بس اس پر نہیں چلتا سوا قسم کے۔“ پھر وہ چلا قسم کھانے کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس نے پیٹھ موڑی: ”دیکھو اگر اس نے قسم کھائی دوسرے کا مال اڑا لینے کی ناحق، تو وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کی طرف سے منہ پھیر لے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع زمین کا جھگڑا اور جھوٹی قسم ہے۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرموت اور کندہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ایک نے کہا کہ دوسرے نے میرے باپ کی زمین دبا لی ہے، جبکہ دوسرے نے کہا کہ زمین میرے قبضے میں ہے اور اس کا اس میں کوئی حق نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کرنے والے سے پوچھا: کیا تیرے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس سے قسم لے۔ جب وہ قسم کھانے چلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے دوسرے کا مال ظلم سے کھانے کے لیے قسم کھائی تو وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس سے منہ پھیر لے گا۔ یہ حدیث زمین کا تنازع، گواہ یا قسم، اور جھوٹی قسم کی وعید کو صاف بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زمین کے دعوے میں گواہ کی اہمیت بیان ہوئی۔
  • گواہ نہ ہونے پر دوسرے فریق کی قسم کا معاملہ آیا۔
  • ظلم سے مال لینے کے لیے قسم کھانا سخت وعید کا سبب ہے۔
  • حدیث میں اللہ کے منہ پھیر لینے کا ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں