صحیح مسلم حدیث ۳۵۹ - ظلم سے زمین لینا
ظلم سے زمین لینے والا اللہ کے غضب کا سامنا کرے گا
صحیح مسلم : ۳۵۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۹
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ ، قَالَ : بَيِّنَتُكَ ؟ قَالَ : لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ ، قَالَ : يَمِينُهُ ؟ قَالَ : إِذًا يَذْهَبُ بِهَا ، قَالَ : لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَاكَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، قَالَ إِسْحَاق فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ .
وائل بن حجر روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ اتنے میں دو شخص آئے لڑتے ہوئے ایک زمین کے لئے۔ ایک بولا: اس نے میری زمین چھین لی ہے جاہلیت کے زمانے میں اور وہ امراء القیس بن عباس کندی تھا اور اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس گواہ ہیں۔“ وہ بولا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس پر قسم ہے۔“ وہ بولا: یا رسول اللہ! تب تو وہ میرا مال اڑا لے گا (قسم کھا کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس یہی ہو سکتا ہے تیرے لئے“۔ جب وہ اٹھا قسم کھانے کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کی زمین ظلم سے مارے گا تو اللہ اس پر غصے ہو گا جب وہ اس سے ملے۔“اسحاق کی روایت میں ربیعہ بن عیدان ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ظلم سے زمین لینا ہے۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، دو آدمی زمین کے جھگڑے میں آئے۔ ایک نے کہا کہ اس نے جاہلیت کے زمانے میں میری زمین چھین لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس پر قسم ہے۔ جب وہ شخص قسم کھانے کے لیے اٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی زمین ظلم سے لے گا، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ اس حدیث میں زمین کا دعویٰ، گواہ کی ضرورت، قسم کا معاملہ، اور ظلم سے زمین ہتھیانے کی سخت وعید سب واضح طور پر موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین کے دعوے میں گواہ طلب کیے گئے۔
- گواہ نہ ہوں تو فریق کی قسم کا معاملہ آتا ہے۔
- ظلم سے زمین لینا سخت وعید کا سبب ہے۔
- حدیث میں اللہ کے غضب کا ذکر آیا ہے۔
