حدیث ۳۵۵

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۵

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، قَالَ : فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالُوا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ، فَقُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَيَمِينُهُ ، قُلْتُ : إِذَنْ يَحْلِفُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الآيَةِ .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھائے حاکم کے حکم سے ایک مسلمان کا مال مارنے کیلئے اور وہ جھوٹا ہو تو ملے گا اللہ سے اور وہ اس پر غصے ہو گا۔“ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی تو سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! (کنیت ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی) کیا حدیث بیان کرتے ہیں تم سے؟ لوگوں نے کہا: ایسی ایسی حدیث۔ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، یہ میرے متعلق اتری، میری اور ایک شخص کی شرکت میں زمین تھی یمن میں، تو جھگڑا ہوا مجھ سے اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس گواہ ہے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو پھر اس سے قسم لے لے۔“ میں نے کہا: وہ تو قسم کھا لے گا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجبور ہو کر قسم کھا لے مسلمان کے مال مارنے کے لئے اور وہ جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ملے اور وہ غصے ہو گا اس پر۔“ پھر یہ آیت اتری «إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا» (آل عمران:77) اخیر تک۔ یعنی ”جو لوگ اللہ کا عہد اور قسم دے کر ذرا سا مال خریدتے ہیں ان کو آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور اللہ ان سے بات نہ کرے گا اور ان کو پاک نہ کرے گا اور ان کی طرف نہ دیکھے گا اور ان کو دکھ کا عذاب ہو گا۔““

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں