صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۰ - مجزز قائف تھا

مجزز قائف تھا: قیافہ شناسی کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۲۰

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ : وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا .

‏‏‏‏ وہی مضمون اس سند سے مروی ہوا ہے اور اس میں یہ ہے کہ مجزز قیافہ شناس تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۲۰ کا خلاصہ

یہ حدیث اسی واقعے کو پھر بیان کرتی ہے اور خاص طور پر ایک اضافہ لاتی ہے کہ مجزز قائف تھا، یعنی قیافہ پہچاننے والا۔ پچھلی روایات میں واقعہ یہ تھا کہ مجزز نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا، ان کے قدم سامنے تھے، اور اس نے کہا کہ یہ قدم ایک دوسرے سے ہیں۔ اس روایت میں یونس کی حدیث کے اندر یہ اضافہ ہے کہ مجزز قیافہ شناس تھا۔ اس لیے اس حدیث کا بنیادی موضوع “قیافہ شناس کی بات” ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی خوشی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر دینے کا مضمون بھی اسی سلسلے کی روایات میں آتا ہے۔ یہاں نئی بات صرف مجزز کے تعارف کی ہے، اس لیے وضاحت میں اسی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس متن سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت کے چھوٹے اضافی الفاظ بھی معنی سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اس روایت میں مجزز کے قائف ہونے کی صراحت آئی ہے۔
  • یہ اضافہ پچھلے واقعے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
  • حدیث کا اصل موضوع قدموں کو دیکھ کر نسبت کی بات کہنا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں