صحیح مسلم حدیث ۳۶۵۵ - حیض میں طلاق کی دوسری روایت
حیض میں طلاق کی دوسری روایت: رجوع اور عدت کا بیان
صحیح مسلم : ۳۶۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۵۵
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، لِنَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي رِوَايَتِهِ : فَلْيَرْجِعْهَا ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَلْيُرَاجِعْهَا .
عبیداللہ روایت:
عبید اللہ سے اس سند سے وہی مضمون مروی ہے اور اس میں عبیداللہ کا قول مذکور نہیں جو اوپر کی روایت میں تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۵۵ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واقعے میں آیا ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا حکم دیا اور طلاق کے لیے عدت کے مطابق وقت بتایا۔ اس روایت میں وہ اضافی سوال ذکر نہیں جو پچھلی روایت میں عبید اللہ نے نافع سے کیا تھا۔ پھر بھی بنیادی بات وہی رہتی ہے کہ حیض میں طلاق کے معاملے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق درست کیا گیا۔ طلاق کا مسئلہ جلدی، غصے یا بے ترتیبی سے نہیں بلکہ بتائے گئے طریقے سے جڑا ہے۔ یہ حدیث پڑھنے والے کو یاد دلاتی ہے کہ نکاح اور طلاق جیسے معاملات میں حکم کی پابندی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
- حیض میں طلاق کے بعد رجوع کا حکم اصل مضمون میں شامل ہے۔
- اس روایت میں عبید اللہ کا اضافی سوال ذکر نہیں ہوا۔
- طلاق کے معاملے میں عدت کے طریقے کی پابندی ضروری ہے۔
