صحیح مسلم حدیث ۳۹۹۶ - مالی معاملات میں آسانی
مالی معاملات میں آسانی: نادار کو مہلت اور مالدار سے نرمی
صحیح مسلم : ۳۹۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۹۶
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ ، آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَقَالَ لَهُ : مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا ، قَالَ : يَا رَبِّ ، آتَيْتَنِي مَالَكَ ، فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ ، فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، فَقَالَ اللَّهُ : أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " ، فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ : هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حذیفہ روایت:
اللہ عزوجل کے پاس اس کا ایک بندہ لایا گیا جس کو اس نے مال دیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ اور اللہ سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔ بندے نے کہا: اے میرے مالک! تو نے اپنا مال مجھ کو دیا تھا میں لوگوں کے ہاتھ بیچتا تھا اور میری عادت تھی درگزر کرنے کی (اور معاف کرنے کی) تو میں آسانی کرتا تھا مالدار پر اور مہلت دیتا تھا نادار کو۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”پھر میں تو زیادہ لائق ہوں معاف کرنے کے لیے تجھ سے، درگزر کرو میرے بندے سے۔“پھر سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے ایسا ہی سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک بندے کا ذکر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا تھا۔ اللہ نے اس سے پوچھا کہ دنیا میں کیا عمل کیا؟ بندے نے کہا کہ اے میرے رب، تو نے مجھے مال دیا، میں لوگوں سے بیع کرتا تھا، اور میری عادت درگزر کرنے کی تھی۔ میں مالدار پر آسانی کرتا اور نادار کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اس بات کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں، میرے بندے سے درگزر کرو۔ اس روایت میں مالی معاملات میں آسانی، قرض دار پر نرمی، اور نادار کو مہلت کا واضح درس ہے۔ یہ قرض معاف کرنے کی حدیث یا نادار کو مہلت دینے کی حدیث کے طور پر تلاش کی جا سکتی ہے، مگر اصل بات یہی ہے کہ بندے نے اپنے مالی لین دین میں سختی کے بجائے آسانی کو عادت بنایا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال اللہ کی نعمت ہے، اس کے استعمال میں نرمی بھی ہونی چاہیے۔
- مالدار سے آسانی اور نادار کو مہلت دینا حدیث میں ذکر ہوا۔
- درگزر کو بندے کی اچھی عادت کے طور پر بیان کیا گیا۔
- اللہ نے اس بندے کے ساتھ بھی درگزر کا معاملہ فرمایا۔
