حدیث ۳۹۹۵
صحیح مسلم : ۳۹۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۹۵
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا كُنْتَ تَعْمَلُ ؟ قَالَ : فَإِمَّا ذَكَرَ ، وَإِمَّا ذُكِّرَ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ ، فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ ، أَوْ فِي النَّقْدِ ، فَغُفِرَ لَهُ " ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص مر گیا۔ پھر وہ جنت میں گیا اس سے پوچھا گیا: تو کیا عمل کرتا تھا؟ سو اس نے خود کو یاد کیا یا یاد دلایا گیا۔ اس نے کہا: میں (دنیا میں) مال بیچتا تھا تو مفلس کو مہلت دیتا اور سکہ یا نقد میں درگزر کرتا (اس کے نقصان یا عیب سے اور قبول کر لیتا) اس وجہ سے اس کی بخشش ہو گئی۔“ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کو سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
