صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۲ - اصحاب فرائض اور قریبی مرد وارث کا حق
وراثت کی حدیث: اصحاب فرائض کے بعد باقی مال کس کا ہے؟
صحیح مسلم : ۴۱۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۲
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بانٹ دو مال کو اصحاب فرائض میں موافق اللہ تعالیٰ کی کتاب کے پھر جو بچ رہے ان سے وہ نزدیک والے مرد کا حصہ ہے۔“ (مثلاً بیٹے کا یا پوتے کا اس کے بعد باپ کا اس کے بعد بھائی یا دادا کا اس کے بعد بھتیجے کا یا بھتیجے کے بیٹوں کا یا پوتوں کا اس کے بعد چچا کا اس کے بعد چچا کے بیٹوں کا اس کے بعد باپ کے چچا کا اس کے بعد ان کے بیٹوں کا اس کے بعد دادا کے چچا کا اس کے بعد اس کے بیٹوں کا اس کے بعد باپ کے دادا کے چچا کا اس کے بعد اس کے بیٹوں کا علیٰ ہذا القیاس اور حقیقی مقدم ہو گا علاقی اور علاقی بھائی حقیقی بھتیجے پر مقدم ہو گا)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں میراث کی تقسیم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق کرنے کا حکم آیا ہے۔ پہلے مال اصحاب فرائض میں تقسیم کیا جائے گا، یعنی وہ لوگ جن کے حصے مقرر ہیں۔ پھر اگر کچھ بچ جائے تو قریبی مرد وارث کا حق بیان کیا گیا ہے۔ اس روایت کے متن میں قریبی رشتے کی ترتیب کا خیال بھی ملتا ہے، اس لیے ترکہ کی تقسیم میں جلد بازی یا اپنی مرضی درست طریقہ نہیں بنتی۔ عام فہم بات یہ ہے کہ وراثت کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر حق دار کو اس کا حصہ ملے اور باقی مال بھی اصول کے مطابق دیا جائے۔ اس میں خاندان کے تعلقات کے بجائے مقرر شرعی ترتیب اصل معیار ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کی تقسیم اللہ کی کتاب کے مطابق کی جائے۔
- اصحاب فرائض کو پہلے ان کے حصے ملیں۔
- جو مال باقی رہے، وہ قریبی مرد وارث کے لیے ہے۔
