صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۳ - اللہ کی کتاب کے مطابق ترکہ کی تقسیم
میراث کا اصول: پہلے اہل فرائض، پھر قریبی مرد وارث
صحیح مسلم : ۴۱۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لابْنِ رَافِعٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ ، فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " ،
ابن عباس روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”مال اللہ کی کتاب کے مطابق اہل فرائض میں تقسیم کرو اور جو کچھ ذوی الفروض چھوڑیں قریبی مرد اس کا زیادہ حقدار ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۳ کا خلاصہ
یہ روایت میراث کی تقسیم کا بنیادی طریقہ بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مال اہل فرائض کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق تقسیم کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن رشتہ داروں کے حصے مقرر ہیں، انہیں پہلے ان کا حق دیا جائے۔ اس کے بعد جو کچھ باقی رہ جائے، اس کا زیادہ حق قریبی مرد رشتہ دار کو ہے۔ اس حدیث میں ترکہ کی تقسیم کا ایک منظم طریقہ آتا ہے، جس سے جھگڑے کم ہو سکتے ہیں اور ہر شخص اپنے حق کو سمجھ سکتا ہے۔ وراثت کی حدیث کا پیغام یہ ہے کہ میت کے مال میں حق داروں کی ترتیب کو نظر انداز نہ کیا جائے اور فیصلہ ذاتی رائے پر نہ چھوڑا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل فرائض کے حصے اللہ کی کتاب کے مطابق ہیں۔
- باقی ترکہ قریبی مرد رشتہ دار کے حق میں بتایا گیا ہے۔
- میراث کے معاملے میں ترتیب اور حق دونوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
