صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۵ - جابر رضی اللہ عنہ اور آیت کلالہ
کلالہ کی میراث: جابر رضی اللہ عنہ کا سوال اور آیت کا نزول
صحیح مسلم : ۴۱۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۵
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يَعُودَانِي مَاشِيَيْنِ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ ، فَأَفَقْتُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 " .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں پیدل میرے پوچھنے کو آئے۔ میں بے ہوش ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا مجھے ہوش آ گیا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کا کیا فیصلہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کی آیت اتری: «يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى الْكَلاَلَةِ» (۴-النساء:۱۷۶) اخیر تک۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی بیماری کا واقعہ آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کی بیمار پرسی کے لیے پیدل تشریف لائے۔ جابر رضی اللہ عنہ بے ہوش تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی ان پر ڈالا تو انہیں ہوش آ گیا۔ ہوش آنے پر انہوں نے اپنے مال کے بارے میں پوچھا کہ میں کیا فیصلہ کروں؟ روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت، یعنی کلالہ سے متعلق آیت نازل ہوئی۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ وراثت کے بڑے معاملات میں ہدایت اللہ کی طرف سے آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کا انتظار فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیمار شخص کی عیادت کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- میراث کے سوال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی آنے تک جواب نہ دیا۔
- کلالہ کی میراث کا مسئلہ قرآن کی آیت سے واضح کیا گیا۔
