صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۶ - بیماری، عیادت اور آیت میراث
آیت میراث کا نزول: جابر رضی اللہ عنہ کی بیماری کا واقعہ
صحیح مسلم : ۴۱۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۶
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ يَمْشِيَانِ ، فَوَجَدَنِي لَا أَعْقِلُ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَشَّ عَلَيَّ مِنْهُ ، فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَنَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 " .
جابر بن عبداللہ روایت:
بیمار پرسی کی میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی سلمہ میں پیدل آ کر تو دیکھا مجھے بے ہوش۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور وضو کیا۔ پھر اس پانی سے تھوڑا مجھ پر چھڑکا، مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کا کیا کروں؟ (یعنی کیونکر بانٹوں) تب یہ آیت اتری:«يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِى أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ» (۴-النساء:۱۱) اخیر تک۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بنی سلمہ میں ان کی عیادت کے لیے پیدل آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر اس پانی کا کچھ حصہ ان پر چھڑکا گیا تو انہیں ہوش آ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں اپنے مال کا کیا کروں؟ روایت میں آیا کہ پھر میراث کی آیت نازل ہوئی جس میں اولاد کے حصوں کا ذکر ہے۔ اس حدیث میں میراث کی تقسیم، عیادت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ایک ہی واقعے میں سامنے آتی ہے، مگر اصل حکم مال کے بارے میں نازل ہونے والی آیت سے جڑا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار صحابی کی عیادت فرمائی۔
- مال کے بارے میں سوال پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔
- اولاد کے حصوں کا معاملہ قرآن کی ہدایت سے بیان ہوا۔
