صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۷ - میراث کے سوال پر وحی کا انتظار
میراث کا سوال: جواب وحی آنے کے بعد ملا
صحیح مسلم : ۴۱۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۷
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ ، فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ ، فَأَفَقْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی اور میں بیمار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور دونوں پیدل آئے۔ مجھ کو بے ہوش پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا، مجھے ہوش آ گیا دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کی آیت اتری۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور دونوں پیدل آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ بے ہوش تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی ان پر ڈالا، تو انہیں ہوش آ گیا۔ پھر انہوں نے اپنے مال کے بارے میں سوال کیا کہ میں کیا کروں؟ روایت میں صاف الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔ اس سے وراثت کی حدیث کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ بڑے شرعی فیصلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے پابند تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عیادت اور مریض کی خبر گیری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- میراث کے سوال میں وحی کا انتظار کیا گیا۔
- مال کے فیصلے میں قرآن کی ہدایت کو بنیاد بنایا گیا۔
