صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۱ - عمریٰ کی دو صورتیں
عمریٰ کی دو صورتیں: تیرے لیے اور تیرے وارثوں کے لیے
صحیح مسلم : ۴۱۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۹۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ ، يَقُولَ : هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ : هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ " ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا ، قَالَ : مَعْمَرٌ ، وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُفْتِي بِهِ .
جابر روایت:
وہ عمریٰ جس کو جائز رکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے کہ عمریٰ دینے والا یوں کہے: کہ یہ تیرا ہے اور تیرے وارثوں کا ہے اور جو یوں کہے: یہ تیرا ہے جب تک تو جئے تو وہ اس کے مرنے کے بعد عمریٰ دینے والے کے پاس چلا جائے گا۔ معمر رحمہ اللہ نے کہا: زہری ایسا ہی فتوی دیتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۱ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ عمریٰ کی وہ صورت بیان کرتے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز رکھا۔ وہ یہ ہے کہ دینے والا کہے: یہ چیز تمہاری ہے اور تمہارے وارثوں کی ہے۔ پھر دوسری صورت بھی بیان ہوئی کہ اگر کوئی صرف اتنا کہے کہ یہ تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہو، تو اس کے مرنے کے بعد وہ چیز دینے والے کے پاس چلی جائے گی۔ روایت کے آخر میں معمر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ زہری رحمہ اللہ اسی کے مطابق فتوی دیتے تھے۔ اس حدیث میں عمریٰ کا حکم الفاظ کے فرق سے سمجھایا گیا ہے۔ ایک طرف وارثوں کو شامل کیا گیا، دوسری طرف صرف زندگی تک دینے کی بات ہے۔ اس لیے عمریٰ یا ہبہ میں زبان کے الفاظ بہت اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمریٰ میں وارثوں کو شامل کرنے اور صرف زندگی تک دینے میں فرق ہے۔
- اگر کہا جائے کہ یہ تیرا اور تیرے وارثوں کا ہے تو حکم الگ ہے۔
- اگر صرف زندگی تک دیا جائے تو مرنے کے بعد واپسی کی صورت بیان ہوئی ہے۔
- مالی معاملات میں شرط صاف الفاظ میں ہونی چاہیے۔
