صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۲ - عمریٰ میں شرط کا حکم
عمریٰ میں شرط نہیں چلتی: جب میراث شامل ہو جائے
صحیح مسلم : ۴۱۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۹۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِيمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ ، فَهِيَ لَهُ بَتْلَةً لَا يَجُوزُ لِلْمُعْطِي ، فِيهَا شَرْطٌ وَلَا ثُنْيَا " قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ ، فَقَطَعَتِ الْمَوَارِيثُ شَرْطَهُ .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا جو کوئی عمریٰ دے ایک شخص کو اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو تو قطعی معمرلهٗ کی ملک ہو جاتا ہے اب کوئی شرط یا استثناء عمریٰ دینے والے کا جائز نہ ہو گا۔ ابوسلمہ نے کہا: اس لیے کہ اس نے وہ عطا کی جس میں میراث ہو گئی اور میراث نے اس کی شرط کو کاٹ دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ بیان ہوا ہے کہ جس شخص کو عمریٰ دی گئی ہو اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے بھی ہو، تو وہ قطعی طور پر اسی کی ملک ہو جاتی ہے۔ دینے والے کے لیے اس میں کوئی شرط یا استثناء جائز نہیں رہتا۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے اس کی وجہ بیان کی کہ دینے والے نے ایسا عطیہ دیا جس میں میراث داخل ہو گئی، پھر میراث نے اس کی شرط کو ختم کر دیا۔ یہ عمریٰ کا حکم بہت واضح کرتا ہے۔ جب کوئی شخص مال دیتے وقت وارثوں کو شامل کر دیتا ہے تو بعد کی شرطیں اثر نہیں رکھتیں۔ اس روایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہبہ اور عمریٰ کے الفاظ سوچ کر کہنے چاہییں، کیونکہ مال کی ملکیت اور وارثوں کا حق انہی الفاظ سے جڑ سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وارثوں کے لیے دی گئی عمریٰ قطعی ملک بن جاتی ہے۔
- دینے والے کی شرط میراث شامل ہونے کے بعد باقی نہیں رہتی۔
- عمریٰ میں الفاظ اور شرطوں کا حکم اہم ہے۔
- مالی عطیہ کرتے وقت انجام کو سمجھنا چاہیے۔
