صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۳ - عمریٰ اسی کا ہے جسے دیا جائے
عمریٰ اسی کو ملے گا جس کو دیا جائے: مختصر مگر واضح حکم
صحیح مسلم : ۴۱۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۹۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " ،
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اسی کو ملے گا جس کو دیا جائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر فرمان ہے کہ عمریٰ اسی کے لیے ہے جسے وہ ہبہ کیا گیا۔ الفاظ کم ہیں، مگر عمریٰ کا حکم صاف ہے۔ جب کوئی چیز عمریٰ کے طور پر کسی کو دی جائے تو اصل حق اسی شخص کی طرف جاتا ہے جسے دیا گیا ہے۔ اس روایت میں زیادہ تفصیل نہیں آئی، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ عمریٰ کو دینے والے کی وقتی بات نہیں بنایا گیا، بلکہ جسے دیا گیا وہی اس کا اصل مخاطب ہے۔ اس موضوع کی دوسری روایات میں وارثوں کا ذکر بھی آتا ہے، مگر اس حدیث کے اپنے الفاظ کا پیغام یہی ہے کہ عمریٰ کا تعلق لینے والے سے ہے۔ اس لیے ہبہ، عمریٰ اور مال کے معاملے میں صاف الفاظ اور درست سمجھ ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمریٰ کا اصل حق اسی کو ہے جسے دیا گیا ہو۔
- مالی عطیہ میں لینے والے کی حیثیت واضح ہوتی ہے۔
- مختصر حدیث بھی واضح مالی اصول بتا سکتی ہے۔
- عمریٰ کے معاملے میں الفاظ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
