صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۶ - اپنے مال محفوظ رکھو
اپنے مال محفوظ رکھو: عمریٰ دینے سے پہلے سوچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۱۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۹۶
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُفْسِدُوهَا ، فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى ، فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ " ،
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روکے رہو اپنے مالوں کو اور مت بگاڑو ان کو کیونکہ جو کوئی عمریٰ دے وہ اسی کا ہو گا جس کو دیا جائے زندہ ہو یا مردہ اور اس کے وارثوں کے لیے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مالوں کو روکے رکھو اور انہیں خراب نہ کرو، کیونکہ جو شخص عمریٰ دے وہ اسی کا ہو گا جسے دیا جائے، وہ زندہ ہو یا مر جائے، اور اس کے وارثوں کے لیے بھی ہو گا۔ اس میں عمریٰ کا حکم بہت عملی انداز میں آیا ہے۔ پہلے مال کے بارے میں احتیاط کی نصیحت ہے، پھر بتایا گیا کہ عمریٰ دینے کے بعد چیز واپس معمول کے طور پر دینے والے کی طرف نہیں رہتی، بلکہ لینے والے اور اس کے وارثوں سے متعلق ہو جاتی ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مال کا عطیہ جذبات میں آ کر نہ کیا جائے۔ عمریٰ، ہبہ اور میراث کے اثرات کو سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، کیونکہ دیا ہوا مال بعد میں خاندان کے حق سے جڑ سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال دینے سے پہلے اس کے انجام کو سمجھنا چاہیے۔
- عمریٰ لینے والے کے لیے ہوتی ہے، اس کی زندگی اور موت دونوں کے بعد بھی اثر رکھتی ہے۔
- وارثوں کا حق عمریٰ میں شامل ہو سکتا ہے۔
- مالی معاملات میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
