صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۸ - عمریٰ میں باغ کا فیصلہ

عمریٰ میں باغ کا فیصلہ: جسے دیا گیا، حق اسی کی طرف رہا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۹۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَعْمَرَتِ امْرَأَةٌ بِالْمَدِينَةِ حَائِطًا لَهَا ابْنًا لَهَا ثُمَّ تُوُفِّيَ وَتُوُفِّيَتْ بَعْدَهُ ، وَتَرَكَتْ وَلَدًا وَلَهُ إِخْوَةٌ بَنُونَ لِلْمُعْمِرَةِ ، فَقَالَ : وَلَدُ الْمُعْمِرَةِ رَجَعَ الْحَائِطُ إِلَيْنَا ، وَقَالَ بَنُو الْمُعْمَرِ : بَلْ كَانَ لِأَبِينَا حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى طَارِقٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، فَدَعَا جَابِرًا فَشَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَى لِصَاحِبِهَا ، فَقَضَى بِذَلِكَ طَارِقٌ ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ ، فَأَخْبَرَهُ ذَلِكَ وَأَخْبَرَهُ بِشَهَادَةِ جَابِرٍ ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : صَدَقَ جَابِرٌ ، فَأَمْضَى ذَلِكَ طَارِقٌ ، فَإِنَّ ذَلِكَ الْحَائِطَ لِبَنِي الْمُعْمَرِ حَتَّى الْيَوْمِ " .

جابر روایت:

ایک عورت نے مدینہ میں اپنے بیٹے کو ایک باغ دیا عمرے کے طور پر وہ بیٹا مر گیا۔ اس کے بعد عورت مری اور اولاد چھوڑی اور بھائی تو عورت کی اولاد نے کہا: باغ پھر ہماری طرف آ گیا اور لڑکے کے بیٹے نے کہا: باغ ہمارے باپ کا تھا اس کی زندگی اور موت میں۔پھر دونوں نے جھگڑا کیا طارق کے پاس جو مولیٰ تھے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے گواہی دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر کہ عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا جائے پھر یہی حکم کیا طارق نے۔ بعد اس کے عبدالملک بن مروان کو لکھا اور یہ بھی لکھا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایسی گواہی دی ہے۔ عبدالملک نے کہا: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں۔ پھر طارق نے وہ حکم جاری کر دیا اور وہ باغ آج تک اس کے لڑکے کی اولاد کے پاس ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک عملی جھگڑا بیان ہوا ہے۔ مدینہ کی ایک عورت نے اپنے بیٹے کو ایک باغ عمریٰ کے طور پر دیا۔ پھر بیٹا فوت ہوا، بعد میں عورت بھی فوت ہوئی۔ عورت کی اولاد نے کہا کہ باغ ہماری طرف واپس آ گیا، جبکہ بیٹے کے بیٹوں نے کہا کہ باغ ہمارے والد کا تھا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی۔ معاملہ طارق کے پاس گیا۔ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق گواہی دی کہ عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا جائے۔ طارق نے اسی کے مطابق فیصلہ کیا، پھر عبدالملک بن مروان کو بھی لکھا، اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کی گواہی کو درست کہا۔ اس حدیث سے عمریٰ کا حکم عملی فیصلے میں دکھائی دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عمریٰ کے جھگڑے میں حدیث کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔
  • جس کو عمریٰ دی گئی، اس کے حق کو معتبر مانا گیا۔
  • مالی اختلاف میں معتبر گواہی اہم ہوتی ہے۔
  • عمریٰ کا حکم عملی ملکیت کے فیصلے پر اثر انداز ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں