صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۹ - عمریٰ وارث کے لیے
عمریٰ وارث کے لیے: حدیث کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ
صحیح مسلم : ۴۱۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ إِسْحاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ " أَنَّ طَارِقًا قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ لِقَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سلیمان بن یسار روایت:
طارق نے فیصلہ کیا عمرے کا معمرلہٗ کے وارث کے لیے بوجہ حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۹۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سلیمان بن یسار سے نقل ہے کہ طارق نے عمریٰ کا فیصلہ وارث کے لیے کیا، اور اس فیصلے کی بنیاد سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث تھی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ اس متن میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، مگر ایک اہم بات صاف ہے کہ عمریٰ کے معاملے میں صرف دعوے نہیں دیکھے گئے، بلکہ حدیث کو بنیاد بنایا گیا۔ یہ عمریٰ کا حکم سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جب عطیہ لینے والے کے بعد وارثوں کا معاملہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کے مطابق وارث کا حق مانا گیا۔ اس حدیث کی تشریح میں ہمیں اسی بات تک رہنا چاہیے کہ طارق کا فیصلہ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت پر قائم تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمریٰ کے معاملے میں حدیث کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔
- وارث کے حق کو جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق مانا گیا۔
- مالی جھگڑوں میں دینی دلیل کو اہم رکھا گیا۔
- مختصر روایت بھی ایک عملی فیصلہ بتا سکتی ہے۔
