صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۰ - عمریٰ جائز ہے

عمریٰ جائز ہے: ہبہ کی ایک خاص صورت کا مختصر حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۰۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جائز ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جائز ہے۔ الفاظ بہت مختصر ہیں، اس لیے اس حدیث کی تشریح بھی اسی حد میں رکھنی چاہیے۔ یہاں عمریٰ کے جواز کا حکم بیان ہوا ہے، یعنی یہ عطیہ اپنی جگہ معتبر ہے۔ اس باب کی دوسری روایات میں اس کی مختلف صورتیں اور وارثوں کا حق بیان ہوا ہے، مگر اس حدیث کے اپنے الفاظ صرف یہ بتاتے ہیں کہ عمریٰ جائز ہے۔ اس لیے عمریٰ کی حدیث تلاش کرنے والے کے لیے یہ روایت بنیادی جملہ فراہم کرتی ہے۔ مال، ہبہ اور عمریٰ کے معاملات میں اصل بات یہ ہے کہ جو صورت بیان ہوئی ہو اسے درست سمجھ کے ساتھ اختیار کیا جائے، اور الفاظ و شرطوں کو واضح رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عمریٰ کو حدیث میں جائز کہا گیا ہے۔
  • مختصر حکم کو اپنی حد میں سمجھنا چاہیے۔
  • عمریٰ ہبہ کی ایک خاص صورت کے طور پر معتبر ہے۔
  • مالی عطیہ میں الفاظ اور شرائط واضح رکھنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں