صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۱ - عمریٰ میراث کا حکم
عمریٰ کی حدیث: میراث کا آسان حکم
صحیح مسلم : ۴۲۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ میراث ہے اس کی جس کو عمریٰ دیا گیا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عمریٰ ہے۔ عمریٰ سے مراد ایسا عطیہ ہے جو کسی کو عمر بھر کے لیے دیا جائے۔ اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ عمریٰ اسی کے اہل کی میراث ہے جسے عمریٰ دیا گیا ہو۔ اس سے عام آدمی کے لیے بات آسان ہو جاتی ہے کہ عمریٰ محض وقتی استعمال کی چیز نہیں رہتی، بلکہ دیے جانے کے بعد اس کا تعلق اس شخص اور اس کے اہل سے جڑ جاتا ہے۔ اسی لیے عمریٰ کی حدیث، عمریٰ میراث، اور عمریٰ کا حکم جیسے الفاظ اس مضمون کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ مال دیتے وقت بات صاف ہو، تاکہ بعد میں جھگڑا نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمریٰ دینے کے معاملے میں الفاظ اور نیت واضح رکھنی چاہیے۔
- جس کو عمریٰ دیا جائے، حدیث کے مطابق وہ اس کے اہل کی میراث ہے۔
- مالی معاملات میں پہلے ہی وضاحت کر لینا بہتر ہے۔
