صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۲ - عمریٰ جائز ہے
عمریٰ کی حدیث: عمریٰ جائز ہے
صحیح مسلم : ۴۲۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۰۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جائز ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جائز ہے۔ یہ ایک بہت مختصر مگر صاف بات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمریٰ کا معاملہ شریعت میں مانا گیا ہے۔ جو شخص کسی کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دیتا ہے، اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ محض زبانی وعدہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مالی معاملہ ہے۔ عمریٰ جائز ہے، عمریٰ کی حدیث، اور عمریٰ کا حکم جیسے سرچ الفاظ اسی وجہ سے مشہور ہیں۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مال دیتے وقت بات صاف ہو، تاکہ لینے والے اور دینے والے دونوں کے لیے معاملہ واضح رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمریٰ کو حدیث میں جائز بتایا گیا ہے۔
- عطیہ دیتے وقت معاملہ صاف اور سمجھا ہوا ہونا چاہیے۔
- مالی لین دین میں بعد کے اختلاف سے بچنے کے لیے وضاحت ضروری ہے۔
