صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۳ - عمریٰ میراث یا جائز

عمریٰ کی حدیث: میراث اور جواز کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۰۳

وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ ، أَنَّهُ قَالَ : مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا أَوَ قَالَ جَائِزَةٌ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی روایت ہی کے سلسلے میں آئی ہے۔ اس میں الفاظ یہ نقل ہوئے کہ عمریٰ اہلِ عمریٰ کی میراث ہے، یا یہ فرمایا گیا کہ عمریٰ جائز ہے۔ اس لیے اس حدیث کا موضوع بھی عمریٰ کا حکم ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ جب کسی کو عمریٰ دیا جائے تو اسے معمولی یا عارضی بات سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ حدیث کے الفاظ عمریٰ میراث اور عمریٰ جائز ہے، دونوں طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایک معتبر مالی معاملہ ہے۔ اس سے سیکھنے کی بات یہ ہے کہ عطیہ، میراث اور ملکیت جیسے معاملات میں بات صاف رکھی جائے، تاکہ اہلِ خانہ یا وارثوں میں الجھن نہ بنے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت عمریٰ کے حکم کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔
  • عمریٰ کے بارے میں میراث اور جواز کے الفاظ آئے ہیں۔
  • مالی معاملات میں الفاظ کی وضاحت بعد کے اختلاف کو کم کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں